Thursday, 28 March 2013

Facts About Dubai Plaza

دبئی پلازہ واحد جگہ جہاں آپ کو ملے سمگل شدہ سکریپ یاختم شدہ مال جوکہ امپورٹ ہوا ہے بیرون اور اندرونِ ملک سے جو کہ سستے داموں بکتا ہے۔ ان میں کوفائدہ مند مواد نہ ہونے کے برابرو۔ اصل وجہ یہ ہے کہ اس مال کوکوئی بنیا دی سا خت نہیں ہے۔یہ مشتمل ہے جھوٹ اور مکار انسانوں کی ٹیم پر یہ فارغ کمپیوٹر بیچتے ہیں اور اس جگہ پہ مگرمچھوں کی بھی بھر مار ہے صبح وشام بہت جھوٹ بولتے ہیں ساتھ ہی مرغا بنانا ان لوگو ں کا معمول ہے اگر کوئی مرغا نہ ملے تو زبردستی مرغا بنا دیتے ہیں ساتھ ہی واہیات بکواس کرنا ان کی پرانی بیماری ہے۔ میرا پرانہ واسطہ پڑا دبئی پلازہ سے جب مجھ کو ضرورت تھی اشد لیپ ٹاپ کی انہوں نے نہ صرف مجھ کو مرعا بنایا بلکہ دبا کرشرافت کا فائدہ بھی اٹھایا ۲۵۰۰۰ انہوں نے مفت کا منافع کمایا۔اور مجھ شدید دھچکا تب محسوس ہوا جب کافی عرصہ گزر چکا تھا249میرا لیپ ٹاپ تھوڑے عرصے میں بلاوجہ خرابیاں شروع ہوگیا۔کبھی وقت پر بند ہو نہ کبھی وقت پر کا م دے۔میرا جو مقصد تھا استعمال کا وہ ختم ہوگیا۔ ہم یقین رکھتے تھے کہ کوالٹی کا لیپ ٹاپ دبئی پلا زہ سے سستے داموں مل جائے گا مگر یہ سب غلط ثابت ہوا نہ کار آمد لیپ ٹاپ ملا اور اندر ڈالی گئی اصلی کارآمد سپیر پارٹس نکال لیے گئے تھے۔ جب میں لیپ ٹاپ کی میمری اپ گریڈ کر وانے گیا تو پتا چلا کہ اصلی میموری کی اشیاء نکال لی گئی تھی مطلب کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ اگر حکومت اس جگہ ان بڑے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈال دے تو یہ گناہ کا کاروبار ختم ہو جائے گا ۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کی کوئی بنیادی کوالٹی وضح کرے اور ان مگرمچھوں کی ہر طرح سے کھلم کھلا مرزی کی ہر طرح کی فضول کوالٹی کی نمودو نماشِ کو روکے اور ان کی عالمی سطہ پروضاع کروادے کے یہ جگہ پاکستان کی ہر سطہ پر کارآمد جگہ نہیں اور خریدوفروخت پر پابندی بھی وضح کروائی جاؤے اور اس پلازے کو ختم کرکے غریبوں کی مدد کا ادارہ بنا دیا جاوئے تاکہ غریب کا ہر بچہ فائدہ اٹھا سکے۔ اور کمپوٹر سیکنڈ ہینڈ کو ہر سطح پر روکا جائے اور نقصان لوگوں کو بتاجائیں کے آئندہ کیلیے ہوشیار رہ سکیں۔ خدا ان لوگوں کا حامی و ناصر ہو۔
بے مانیاں درج ذیل 
ہر اشیاء میں نے جیسے عرض کیا کہ کنٹینر میں سمگل ہوکر باہر سے با آسانی ملتی ہے بغیر کسی رکاوٹ کے۔ کیوں کہ پاکستان کا کسیر زرِمبادلہ امریکہ سے آتا ہے دبئی سے بھی آجاتا ہے کیوں کہ وہ لوگ جب بھی اشیاء کمزور ہوجائیں تو کچرے میں پھینک دیتے ہیں اور پاکستا ن بھارت بنگالی منافع خور سستے داموں یہ کچرا کثیر مواد میں اٹھا لیتے ہیں۔کیونکہ یہ ایسے ممالک ہیں جو پرانی چیزوں کو بے دریغ استعمال کرنے میں دیر نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ ان ممالک کے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ جتنا سستا اتنا رگڑو۔اب بھی بات ختم نہیں ہوتی یہ کمپیوٹر انڈسڑیوں میں بے دریغ استعمال ہوچکے ہوتے ہیں جن میں شامل ہے اخباری ادارے249یونیورسٹیاں249 نیٹ کی دکانیں249شاپنگ مال249گوگل اور میکروسوفٹ کے ادارے جو ونڈو وغیرہ ایجاد کرتے ہیں اور آپکو بھی پتا ہے کہ ان ممالک میں شفٹوں کی صوت میں کام کیا جاتا ہے۔ صبح کی شفٹ کے لوگ الگ اور شام کی شفٹ کے لوگ الگ الگ کام کرتے ہیں اور کمپیوٹر صبح شام دن رات بغیر ایک سیکنڈ کے فرق سے چلتے رہتے ہیں۔اور سال کے اختتام میں گودام کھانے میں گلنے سڑنے کیلیے پھینک دیا جاتا ہے۔ پھر ایک لمبا چوڑا ٹھیکا دیا جاتا ہے جو بندا ٹھیکا بولی زیادہ لگاتا ہے اسکو یہ فارغ شدہ مال سستے داموں حوالے کدیا جاتا ہے۔پھر ایجنٹ ان کو غریب ممالک ربوط کرتے ہیں اور اچھی آفر پرکنٹینرز پر لادیاجاتا ہے۔ایجنٹ ۵۰ فیصد کا فائدہ اسی لمحے اصل کرلیتے ہیں۔پھر کسٹم حکام کی جیب بھری جاتی ہیں اور کسٹم کلیرنس مل جانے کے بعد پورے ملک کے شہری ڈیلروں کو بھیج دیے جاتے ہیں۔ ڈیلر بھی ۲۵ فیصد منافع کمالیتا ہے اسکے بعد دکانوں میں دکان دار خریدتے ہیں اور دکان دار بھی ۲۵ فیصد منافع لیتا ہے۔ اور گھٹیا کوالٹی کا لیپ ٹاپ آپکی زینت بن جاتے ہیں۔ 
ایف بی آر:۔ ایف بی آر نے ۲۱۰۵ میں ڈیوٹی سرچارج اور بڑھادیا ہے لیپ ٹاپ امپورٹ کرنے پر کسٹمر کو ۳۰۰۰ ہزار روپے مفت کے ڈیوٹی سرچارج خصوصی دینے پڑتے ہیں۔ تو مامولی لوگ ۵۰ روپیہ بھی خرچ بلکل ہی نہیں خرچ کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ کمپیوٹر ان کوگو ں کا اثاثہ بن جاتے ہیں۔